Hum Jo Tareek Rahon Mein Mare Gaye - Faiz Ahmad Faiz Nazm

::: Faiz Ahmad Faiz :::

Hum Jo Tareek Rahon Mein Mare Gaye - Faiz Ahmad Faiz Nazm
Hum Jo Tarik Rahon Mein Mare Gae - Faiz Ahmad Faiz
Hum Jo Tareek Rahon Mein Mare Gaye - Faiz Ahmad Faiz Nazm with Lyrics
(ایتھل اور جولیس روز بزگ کے خطوط سے متاثر ہوکر لکھی گئی نظم)

فیض احمد فیض نےیہ نظم "ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے" کیوں لکھی؟


دوسری جنگ عظیم کے بعدامریکہ اور روس کی سرد جنگ زروپر تھی۔ دونوں خود کو عالمی طاقت منوانا چاہتے تھے، اس لئے دونوں میں یہ دوڑ لگی ہوئی تھی کہ کون زیادہ خطرناک اور بڑی تباہی والے ہتھیار پہلے بناتا ہے، تو ایسے میں امریکہ کو اپنے سب سے قریبی اتحادی برطانیہ سے ایک ٹپ ملی کہ اس کے کچھ سائنسدان دراصل روس کے جاسوس ہیں۔اب روس کے جاسوس ہونا امریکہ میں بہت خطرناک بات تھی، کیونکہ امریکہ اور روس اس وقت تقریبا جنگ کی حالت میں تھے، یعنی اس الزام کے بعد جس پر یہ الزام لگتا اس کے لیے صفائیاں دینا ہی مشکل ہو جاتا تھا۔

تو یہ الزام لگا ایک امریکی سولجر ڈیوڈ گرین گلاس پر جو مین ہیٹن پر اجیکٹ کی حفاظت کے لیے معمور تھا۔مین ہیٹن پراجیکٹ دوسری جنگ عظیم کا سب سے خفیہ پراجیکٹ تھا جس میں امریکہ ایٹم بم تیار کر رہا تھا۔ڈیوڈگرین گلاس اس کی حفاظت کے لیے تعینات تھا، اس پر الزام تھا کہ اس نے امریکہ کے اس انتہائی ٹاپ سیکرٹ پروگرام مین ہیٹن پراجیکٹ سے ایک بنیادی ڈرائینگ روس کو سمگل کی ہے۔یہ ڈرائینگ ایٹم بم کی تیاری سے متعلق تھی۔

لیکن جب گرین گلاس کو پکڑا گیا اور پوچھ تاچھ ہوئی تو اس نے بتایا کہ اسے اس کام کے لیے اس کی بہن نے اکسایا تھا۔یہ بہن تھی ایتھل روز نبرگ۔جس کا شوہر جولیس روزنبرگ امریکی فوج میں انجینئر کبھی رہا تھا، اب وہ سیاسی شخصیت تھا۔ڈیوڈگرین گلاس نے بتایا کہ اصل میں ڈرائینگ اسے نہیں، جولیس روزنبرگ کو چاہے تھی۔اسی نے اپنی بیوی یعنی ڈیوڈ کی بہن سے کہا کہ وہ اپنے بھائی کو بھابھی کے ذریعے قائل کرے۔جب ڈیوڈ قائل ہو گیا تو اس نے ڈرائینگ مین ہیٹن پراجیکٹ سے نکالی اورروزنبرگز کے حوالے کر دی۔

ڈیوڈگرین گلاس چونکہ ایک وعدہ معاف گواہ بنا تھا اور اس نے مبینا طور پرروسی جاسوسوں کے نیٹ ورک کا بتا دیا تھا سو اس کی جان خلاصی ہو گئی تھی یعنی اس کی زندگی بچ گئی تھی۔اب جولیس اور بیوی ایتھل روزنبرگ کو گرفتار کر لیا گیا۔اب یہی مطالبہ امریکی تفتیش کاروں کا ان دونوں سے بھی تھا جو ڈیوڈ گرین گلاس سے تھاکہ وہ اپنے جرم کا اقرار کریں اور باقی جاسوسوں کے بارے میں بتا دئیں۔لیکن روزنبرگ اس بات سے انکار کر رہے تھے کو وہ روس کے جاسوس ہیں، بلکہ دوران ٹرائل جب ان سے کئی بار سوال پوچھے جاتے تو وہ ان سوالوں کا جواب دینے سے بھی انکار کر دیتے۔لیکن امریکی حکومت نے بہرحال عدالت میں یہ ثابت کر دیا کہ وہ روسی جاسوس ہیں۔ اور اب جج نے انھیں سزا دینا تھی۔جج کے پاس دو آپشن تھی ایک یہ کہ وہ انھیں تیس سال کی قید سنا دے، دوسرا یہ کہ وہ انھیں بجلی کی کرسی پر بٹھا کر سزائے موت دے دے۔

امریکہ میں اس سے پہلے اور بعد میں کسی روسی سویلین جاسوس کو سزائے موت نہیں دی گئی تھی۔لیکن اس وقت امریکہ میں ایک خاص ماحول تھا۔اس ماحول کو میکارتھی ازم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اسے ایک امریکی سینیٹر میکارتھی لیڈ کر رہا تھا۔میکارتھی نے بڑی کامیابی سے امریکی جب الوطنی کو کیمونزم سے نفرت کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔اسے ایف بی آئی کی مدد بھی حاصل تھی، کسی زمانے میں وہ خود بھی امریکی انٹیلی جنس میں کام کر چکا تھا۔تو اس نے ایک لسٹ بنائی ہوئی تھی جس میں سیکڑوں سرکاری عہدے دراوں کے نام تھے۔میکارتھی کے مطابق یہ وہ لوگ تھے جو امریکہ کے وفادار نہیں تھے یا ان پر شک تھا۔حد تو یہ تھی کہ امریکی صدر ٹرومین کے دستخطوں سے ایک ایسا آردڑ بھی جاری ہواجس میں تمام سرکاری ملازمین کو وطن سے وفاداری کا دوبارہ ثبوت دینا تھا۔اسے لائیلٹی ری ویو کہا جاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیکڑوں لوگوں کو نوکریوں سے، اورکچھ کو تو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔جوزف میکارتھی اور ایف بی آئی کو لوگوں کو پکڑنے اور کٹہرے میں لانے کے لیے ثبوت نہیں، صرف الزام چاہے تھا۔جس پر الزام لگتا وہ حب الوطنی کی صفائیاں دیتا پھرتا کہ وہ کیمونسٹ نہیں، محب وطن امریکی شہری ہے۔

میکارتھی ازم کا نشانہ سرکاری اہلکار، بزنس مین، ڈاکٹرز اور یہاں تک کے ہالی ووڈ اداکاراور پروڈیوسر بھی بن رہے تھے۔جیسے اس کا مشہور زمانہ نشانہ چارلی چیپلن بنا۔اسے بھی اپنے لبرل خیالات کی وجہ سے کیمونسٹ یا روسی ایجنٹ سمجھا گیا۔ میکارتھی ازم سے متاثر میڈیا کے سیکشنز اور حکومتی اہلکاروں نے اس کے امریکہ رہنے کو دوبھر کر دیا۔ چارلی اپنی فلموں کے لیے کیلی فورنیا ہالی ووڈ آیا کرتا تھا، وہاں رہتا بھی تھا، اس کے اثاثے بھی امریکہ میں تھے، اس کے بیوی بھی وہاں رہتی تھی۔ لیکن میکارتھی ازم سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے 1953میں امریکہ آنا ہی چھوڑ دیا۔اس نے باقاعدہ پریس ریلیز کے ذریعے اپنی ناراضگی دکھائی اور ہمیشہ کے لیے امریکہ چھوڑ کو سوئزرلینڈ میں ایک جھیل کنارے شفٹ ہو گیا۔ مرتے دم تک وہ وہیں رہا اور وہی دفن ہوا۔

میکارتھی ازم نے امریکی حب الوطنی اتنی حسااس کر دی تھی کہ انھیں پولیو ویکسین بھی روسی سازش لگتی تھی۔امریکی اخبارات میں پولیو ویکسین کے خلاف اشتہارت چھپتے تھے کہ یہ اصل میں ایک سازش ہے، اس سازش کے پیچھے روسی نژاد ڈاکٹرز کا تعین کیا جاتا،  جس کا مقصد یہ بتایا جاتا کہ روسی نژاد ڈاکٹرز دراصل امریکی نسل کو پولیو کے قطروں کے ذریعے ذہنی اور جسمانی طور پر تباہ کرنا چاہتے ہیں۔  یہ نفرت پر مبنی انتہا پسند تحریک تھی، اور تاریخ ایسی تحریکوں سے بھر ی پڑی ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ ایسے نظریات کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ایسے ایکسٹریم آئیڈیاز شروع میں تو بہت جاندار اور پاپولر اور طاقتور ہوتے ہیں، لیکن زیادہ دیر ٹھر نہیں پاتے۔ کیونکہ کائنات کی سچائی یہ ہے کہ منفی سوچ سے مثبت نتائج نہیں نکل سکتے۔کچھ ڈلیور کرنے کے لیے جو مثبت سوچ اور لوگوں کو ساتھ ملا کر چلنے کی صلاحیت ضروری ہوتی ہے، وہ ایسے نظریات میں نہیں ہوتی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے نظریات بہر حال معاشرے کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ بلکل اسی طرح ایک دہائی کے درمیان ہی میکارتھی ازم کا بھی خاتمہ ہو گیا۔اور یہ ایسے وقت ہوا جب جوزف میکارتھی اور اس کے ساتھیوں نے فوج کے اندر بھی کیمونسٹ ایجنٹس تلاش کرنے اور لائلٹی ری ویوکے ٹیسٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس موقعے پر امریکی فوج اور ایف بی آئی نے میکارتھی کا ساتھ چھوڑدیا اور وہ دو کوڑی کا ہو کر رہ گیا۔ اس کی سینیٹر شپ بھی ختم ہو گئی۔ میڈیا بھی اسے کوئی خاص لفٹ نہیں کرواتا تھا۔ سو وہ دکھی ہو کر شراب اور نشے کا عادی ہو گیا۔ دو ہی سال میں اس کا جگر ناکارہ ہو گیا اور اس کی موت ہو گئی۔

یہ سب بتانے کا مقصد یہ کہ جس وقت روزنبرگ کا ٹرایل ہو رہا تھا تو یہی میکارتھی ازم اپنے عروج پر تھا۔ یہ وقت 1950 کے شروع کا تھا۔ جو جج یہ ٹرائل سن رہا تھا وہ بھی میکارتھی ازم سے متاثر تھا۔ اس کے تبصرے ایسی صاف گواہیاں دیا کرتے تھے۔ چند ماہ میں ایتھل اور جولیس روزنبرگ پر کیس ثابت کر دیا گیا۔ اب جج کے پا س دو سزائیں تھیں، یا تو انھیں تیس سال قید کی سنا دے یا الیکٹرک چیئر پر سزائے موت دے دے۔ 15اپریل 1951کو جج نے جولیس اور ایتھل روزنبرگ کو سزائے موت جبکہ ڈیوڈگرین گلاس کو 15سال قید کی سزا سنائی۔روزنبرگز کی سزاؤں پر دنیا بھر میں کئی جگہ احتجاج شروع ہو گیا۔ ان دونوں کے دو بیٹے تھے ایک آٹھ سال کا اور ایک چار سال کا۔ان دونوں کی تصویر اٹھا کر لوگ یورپ اور وائٹ ہاؤس کے سامنے ان دونوں کو ساتھ لیکر اختجاج کیا کرتے۔امریکہ میں اس وقت ان کی حمایت کرنا بھی ایک جرم جیسا ہی تھا،کیونکہ ان لوگوں کو بھی کیمونسٹ کا ساتھی سمجھا جاتا تھا لیکن پھر بھی امریکہ میں ان کی سزائے موت کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے۔روزنبرگز کے حق میں جو مظاہرے ہو رہے تھے،ان میں خاص طور پر جولیس کی بیوی ایتھل روزنبرگ کے بارے میں لوگ زیادہ حساس تھے کہ اسے کس جرم میں سزائے موت دی جا رہی ہے۔ان کی سزائے موت ختم کر نے کے لیے دنیا بھر سے اپیلیں کی گئیں۔مشہورہ زمانہ سائنس دان آئین سٹائن، مصور پابلوپکاسو اور یہاں تک کہ عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ پایئس ٹویلو نے بھی سزائے موت ختم کرنے کی درخواست کی۔لیکن امریکہ نے سب اپیلیں مسترد کر دیں۔

سزا پر عمل درآمد سے کچھ پہلے دونوں میاں بیوی کو آخری ملاقات کروائی گئی۔لیکن اس ملاقات میں ان کے درمیاں لوہے کی ایک جالی حائل رہی۔اس آدھے گھنٹے کی مختصر ملاقات میں دونوں نے اپنے بچوں کے نام ایک چھوٹا سا خط لکھا۔خط میں انھوں نے اپنے بیٹوں کے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ دنیا میں اچھائی اور انصاف نہیں،لیکن پھر بھی زندگی اس قابل ہے کہ اسے جیا جائے۔بچو تم ہمیشہ یاد رکھنا تمہارے والدین بے گناہ تھے ان کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں تھا۔تمہارے ماما اور بابا۔ گڈ بائے۔

آدھی رات کو دونوں کو بجلی کی کرسی پر بٹھانے کے لیے لے جایا گیاتو آخری بار پوچھا گیا کہ اگر تم اپنے جرم کا اقرار کر لو اور باقی روسی جاسوسوں کے نام بتا دو تو جان بخشی ہو سکتی ہے۔دونوں نے اپنے جرائم سے انکار کیا۔انھوں نے آخری بار ایک دوسرے کو کس کیا، پھر پہلے جونسن روزنبرگ کو پہلے بجلی کی کرسی پر لے جا کر بیٹھا دیا گیا،اس نے پہلے ہی جھٹکے میں جان دے دی۔ اس کے بعد اس کی بیوی ایتھل روزنبرگ کو اسی کرسی پر بٹھایا گیا، لیکن سے پانچ بار شاکس دینا پڑے۔19جون1953کی رات ایک بج کر تینتالیس منٹ پر دونوں کی سزاؤں پر عمل درآمد ہو چکا تھا۔ جس جیل میں یہ سزا دی گئی اس کا نام تھا سنگ سنگ پرزن۔سنگ سنگ پرزن کے باہر سزا کے وقت سیکڑوں لوگ موجود تھے۔اسی وقت یورپ اور روس میں اور باقی دنیا میں کیمونزم کے سیکڑوں حامی گھروں سے باہر نکل کر خاموش کھڑے تھے، اور اپنے دکھ کا اظہار کر رہے تھے۔روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں سویلین جاسوسوں کی یہ واحد سزائے موت تھی۔

ان دنوں فیض احمد فیض بھی راولپنڈی سازش کیس میں جیل بھگت رہے تھے۔روزنبرگ کا مقدمہ، روس امریکہ سرد جنگ کے حوالے سے بھی عالمی شہرت اختیار کر چکا تھا۔اس لیے فیض احمد فیض کی بھی اس پر گہری نظر تھی۔ وہ خود بھی کیمونسٹ نظریات سے متاثر تھے۔جب انھیں جیل میں یہ اطلاع ملی روزنبرگ کو الیکٹرک چئیر پر سزائے موت دے دی گئی ہے تو وہ بہت غمزدہ ہوئے۔انھوں نے جب وہ خطوط دیکھے جو روزنبرگز نے جیل سے لکھے تھے تو فیض کا قلم رک نہ سکا۔انھوں نے لکھا۔

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم

دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم

نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

***

سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی

تیری زلفوں کی مستی برستی رہی

تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی

***

جب گھلی تیری راہوں میں شام ستم

ہم چلے آئے لائے جہاں تک قدم

لب پہ حرف غزل دل میں قندیل غم

اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی

دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم

ہم جو تاریک راہوں پہ مارے گئے

***

نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی

تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی

کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے

ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے

***

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم

اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم

مختصر کر چلے درد کے فاصلے

کر چلے جن کی خاطر جہانگیر ہم

جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

نوٹ: یہ مضمون دیکھو سنو جانو سے لیا گیا ہے۔

Tere Honton Ke Phulon Ki Chahat Mein Hum
Dar Ki Khushk Tahni Pe Ware Gae
Tere Haton Ki Shamon Ki Hasrat Mein Hum
Nim-tarik Rahon Mein Mare Gae
***
Suliyon Par Hamare Labon Se Pare
Tere Honton Ki Lali Lapakti Rahi 
Teri Zulfon Ki Masti Barasti Rahi 
Tere Hathon Ki Chandi Damakti Rahi 
***
Jab Ghuli Teri Rahon Mein Sham-e-sitam 
Hum Chale Aae Lae Jahan Tak Qadam 
Lab Pe Harf-e-ghazal Dil Mein Qindil-e-gham 
Apna Gham Tha Gawahi Tere Husn Ki 
Dekh Qaem Rahe Is Gawahi Pe Hum 
Hum Jo Tarik Rahon Pe Mare Gae 
***
Na-rasai Agar Apni Taqdir Thi 
Teri Ulfat To Apni Hi Tadbir Thi 
Kis Ko Shikwa Hai Gar Shauq Ke Silsile 
Hijr Ki Qatl-gahon Se Sab Ja Mile 
***
Qatl-gahon Se Chun Kar Hamare Alam 
Aur Niklenge Ushshaq Ke Qafile 
Jin Ki Rah-e-talab Se Hamare Qadam 
Mukhtasar Kar Chale Dard Ke Fasle 
Kar Chale Jin Ki Khatir Jahangir Hum 
Jaan Ganwa Kar Teri Dilbari Ka Bharam 
Hum Jo Tarik Rahon Mein Mare Gae 



Post a Comment

Please do not enter any spam link in the comment box.

Previous Post Next Post